بھارت پاکستان کشیدگی اور آپریشن سندور


جائزہ

یہ بریفنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان موجودہ صورتحال، خاص طور پر “آپریشن سندور” اور اس کے بعد کی پیش رفت پر مبنی ہے۔ یہ صورتحال کی کشیدگی، میڈیا کے کردار، غلط معلومات کے پھیلاؤ، اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے اہم نکات پر روشنی ڈالتی ہے۔

اہم موضوعات اور نکات

  1. جنگ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور قیاس آرائیاں:
  • پچھلے 24 گھنٹوں میں بھارتی میڈیا نے جنگ کے آغاز اور شدت کے بارے میں غلط خبریں پھیلائی ہیں۔
  • یہ خبریں اتنی زیادہ تھیں کہ قومی دارالحکومت اور گڑگاؤں کے کچھ اسکول بند کرنے پڑے۔
  • موجودہ صورتحال کو غلط طور پر ایک مکمل جنگ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
  • اصل صورتحال یہ ہے کہ کشیدگی ہے، لیکن مکمل جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی۔
  1. غلط معلومات اور میڈیا کا کردار:
  • بھارتی مین اسٹریم میڈیا نے ٹی آر پی کی دوڑ میں جھوٹ، افواہیں اور پرانی تصاویر/ویڈیوز کو استعمال کیا ہے۔
  • پاکستان کے کراچی بندرگاہ پر حملے، اسلام آباد پر قبضے، اور جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت کی خبریں سراسر غلط ہیں۔
  • ٹائمز ناؤ، ریپبلک، زی نیوز، اور انڈیا ٹوڈے جیسے چینلز نے غلط معلومات پھیلائیں۔
  • اقتباس: “پچھلے 12 گھنٹے اور 24 گھنٹے میں جس طریقے سے انڈین میڈیا نے اے آئی تو چھوڑیے جس طریقے سے جھوٹ افواہیں جس کو پھیلایا ہے جس سے لگتا ہے کہ وار کا منظر کافی زیادہ بدتر ہو چکا ہے۔”
  • اقتباس: “انٹرنیشنل آبزرورز اینڈ کمنٹیٹرز کہہ رہے ہیں کہ انڈین میڈیا پر اب بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی ایسا چینل نہیں ہے جو اوتھینٹک نیوز دے رہا ہو۔ سب ٹی آر پی کے ہوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔”
  • میڈیا کا یہ کردار بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
  1. پاکستان اسٹیبلشمنٹ کا مبینہ بیان (جعلی):
  • ایک AI سے تیار کردہ تصویر اور بیان وائرل ہوا جس میں پاکستان اسٹیبلشمنٹ کو آپریشن سندور کے دوران دو JF-7 طیاروں کے نقصان اور “جذباتی دھچکے” کا اعتراف کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
  • اس بریفنگ کے مطابق، یہ بیان جھوٹا اور AI سے تیار کردہ تھا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ عام طور پر اس طرح کی شفافیت یا کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرتی۔
  1. آپریشن سندور کی اصل کامیابی:
  • آپریشن سندور کی سب سے اہم اور تصدیق شدہ کامیابی جیش محمد کے دہشت گرد سرغنہ عبدالرؤف اظہر کا مارا جانا ہے۔
  • عبدالرؤف اظہر 1999 کی IC 814 ہائی جیکنگ کا ماسٹر مائنڈ تھا جس کے نتیجے میں عمر شیخ کی رہائی ہوئی تھی، جس نے بعد میں ڈینیئل پرل کو اغوا کر کے قتل کیا تھا۔
  • اقتباس (جیوڈیا پرل کا ٹویٹ): “I want to thank all you who reached out to me today in response to the news that India’s military forces have eliminated Abdul Rauf Azhar, a man described as responsible for the kidnapping and murder of my son Daniel Pearl.”
  • اگرچہ اظہر براہ راست ڈینیئل پرل کے اغوا میں شامل نہیں تھا، لیکن IC 814 ہائی جیکنگ کو آرکیسٹریٹ کرنے کے باعث وہ بالواسطہ طور پر ذمہ دار تھا۔
  • یہ کامیابی پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی پرورش کو بے نقاب کرتی ہے۔
  • عبدالرؤف اظہر کے جنازے میں لشکر طیبہ کے کمانڈر اور پاکستانی فوجی افسران کی موجودگی پاکستان کے دہشت گردوں سے تعلقات کو مزید واضح کرتی ہے۔
  1. عسکری کشیدگی کی نوعیت:
  • پاکستان نے “آپریشن سندور” کے جواب میں بھارتی فوجی اہداف پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
  • بھارتی فضائی دفاعی نظام (S400، آکاش سسٹم) نے ان حملوں کو مؤثر طریقے سے روکا۔
  • بھارت نے جوابی کارروائی میں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام اور لاہور کے قریب اہداف کو ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
  • پھر پاکستان نے جموں پر ڈرونز سے حملہ کرنے کی کوشش کی، جسے دوبارہ ناکام بنا دیا گیا۔
  • موجودہ عسکری کارروائیاں ایک دوسرے کے فضائی دفاعی نظام کو جانچنے کے مرحلے میں ہو سکتی ہیں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
  1. غیر اعلانیہ بلیک آؤٹس:
  • بھارت کے کچھ علاقوں میں غیر اعلانیہ بلیک آؤٹس پر ماہرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
  • جدید ہتھیار GPS کوآرڈینیٹس پر مبنی ہوتے ہیں، اس لیے روشنی بند کرنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
  • ان بلیک آؤٹس کو عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور غیر ضروری اقدامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
  1. ڈی-ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی):
  • بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یکطرفہ طور پر کشیدگی کم نہیں کرے گا۔
  • اقتباس (رتیو سرین کے انڈین ایکسپریس آرٹیکل سے): “If Pakistan will go further, we will not stop.”
  • بھارت کا مؤقف ہے کہ ان کی جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، اور اگر پاکستان دہشت گردی کا جواب فوجی تنصیبات پر حملے سے دے گا، تو بھارت بھی جوابی کارروائی کرے گا۔
  • ڈی-ایسکلیشن کی ذمہ داری پاکستان پر بھی عائد ہوتی ہے۔
  • بھارت کا صبر ختم ہو رہا ہے، اور وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے آخر تک لڑنے کے لیے تیار ہے۔
  1. بین الاقوامی اثر و رسوخ:
  • بھارت کو عبدالرؤف اظہر کے قتل اور پاکستان کے دہشت گردوں سے تعلقات کے بارے میں معلومات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا چاہیے۔
  • پاکستان کی مالی امداد روکنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
  • پاکستان اپنی دفاعی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اس فنڈنگ کا استعمال کر رہا ہے۔
  • اقتباس: “इंटरनेशनल मॉनिटरी फंड को प्रेशराइज करना होगा कि पाकिस्तान को फंडिंग बंद करो क्योंकि ये फंडिंग से वो अपने डिफेंस एक्सपेंसेस बढ़ा रहा है।”
  • امریکہ موجودہ صورتحال میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے اور کھلے عام بھارت کا ساتھ نہیں دے رہا۔
  • اقتباس (JD Vance کا بیان): “I am not going to get involved in a war that is fundamentally none of our business.”
  • چین پاکستان کو ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کر رہا ہے اور اس صورتحال کو اپنے ہتھیاروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
  • یہ صورتحال چین کے دفاعی سٹاکس کی مانگ میں اضافہ کر رہی ہے۔
  1. پاکستان کی اندرونی صورتحال:
  • جنگ پاکستانی فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑی جا رہی ہے، نہ کہ عام شہریوں یا سویلین حکومت کے ساتھ۔
  • جنرل عاصم منیر کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
  • جب تک پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو سبق نہیں سکھایا جائے گا، دہشت گردی جاری رہے گی۔
  • پاکستانی شہریوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے ملک پر حملہ کیوں کیا گیا (دہشت گردی کے مراکز کے طور پر مساجد کا استعمال)۔
  1. آگے کا راستہ:
  • صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔
  • ڈی-ایسکلیشن پاکستان کی جانب سے ہونی چاہیے۔
  • بھارت نے اپنا پیغام واضح کر دیا ہے کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔
  • انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی پاکستان کو فنڈنگ سے متعلق میٹنگ بہت اہم ہے۔
  • لوگوں کو مین اسٹریم میڈیا کی غلط خبروں اور افواہوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ قابل اعتماد ذرائع اور فوجی حکام کے بیانات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

نتیجہ

بریفنگ کے مطابق، اگرچہ مکمل جنگ شروع نہیں ہوئی ہے، صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک بڑا مسئلہ ہے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں ایک اہم کامیابی (عبدالرؤف اظہر کا خاتمہ) حاصل کی ہے۔ عسکری کارروائیاں فضائی دفاعی نظام کو جانچنے پر مرکوز ہیں، لیکن مزید بڑھ سکتی ہیں۔ بھارت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب یکطرفہ طور پر پیچھے نہیں ہٹے گا اور ڈی-ایسکلیشن کی ذمہ داری پاکستان پر ہے۔ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر آئی ایم ایف اور امریکہ، اس صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ جب تک پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو دہشت گردی کی پرورش کی قیمت نہیں سمجھائی جاتی، یہ جنگ جاری رہ سکتی ہے۔

Unknown's avatar

Author: Munaeem Jamal

Blogger and Currently working as SWIFT Support Office in a Bank in Pakistan Bachelor of Arts : Political Science, International Relations and Economic. All posts on health and medications are written by my daughter, Nazeha Maryam Jamal She is a 5th Professional Student of Karachi Medical and Dental College

Leave a Reply

Discover more from Cross-Border Currents

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading