اختلاف، وفاداری اور ریاست: ہم کہاں لکیر کھینچ رہے ہیں؟

پاکستان میں سیاست اب اختلافِ رائے اور غداری کے درمیان ایک خطرناک ابہام میں داخل ہو چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ رجحان تیز ہوا ہے کہ فوج یا کسی ریاستی ادارے پر تنقید کو براہِ راست دشمنی سے جوڑ دیا جاتا ہے، اور یوں سیاسی اختلاف کو اخلاقی جرم بنا دیا جاتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ افواجِ پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور شہداء کا احترام ہر پاکستانی پر فرض ہے۔ فوجی یادگاروں کی توہین یا تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ مگر یہاں ایک نازک مگر بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا اداروں کے احترام کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سیاسی کردار پر سوال بھی بند کر دیے جائیں؟

دنیا کی جمہوریتوں میں ریاستی ادارے مضبوط اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ سوال برداشت کرتے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ وہ سوال سے بالاتر ہوتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اداروں کو مکمل تقدس دینے سے وہ مضبوط نہیں بلکہ غیر جوابدہ ہو جاتے ہیں۔

سیاسی جماعتوں، خصوصاً تحریکِ انصاف، پر سخت تنقید کی جا سکتی ہے۔ ان کی حکمرانی، بیانیے، اور بعض فیصلوں پر سوال اٹھانا جمہوری حق ہے۔ مگر یہ کہنا کہ سیاسی اختلاف یا احتجاج خودبخود دشمن قوتوں کی خدمت بن جاتا ہے، ایک خطرناک منطق ہے۔ ایسی منطق میں ہر مخالف، ہر ناقد، اور ہر سوال کرنے والا بالآخر غدار ٹھہرتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ایک تلخ حقیقت ہے، اور وہاں کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر جوابدہی ہونی چاہیے۔ مگر دہشت گردی کے پورے مسئلے کو ایک جماعت یا ایک بیانیے سے جوڑ دینا سادہ بیانی ہے۔ یہ مسئلہ دہائیوں پر پھیلی پالیسیوں، تضادات، اور ریاستی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔

مذہب کا سیاست میں استعمال بھی کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ جب مذہبی زبان سیاسی فائدے کیلئے استعمال ہو، تو اس پر تنقید جائز ہے۔ لیکن سیاسی اختلاف کو مذہبی یا اخلاقی گناہ بنا دینا مکالمے کے دروازے بند کر دیتا ہے۔

فارن فنڈنگ، بیرونی روابط، اور مالی شفافیت جیسے معاملات کا حل عدالتوں اور شواہد سے نکلتا ہے، نعروں اور فتوؤں سے نہیں۔ الزامات اگر ثابت ہوں تو احتساب ہونا چاہیے، اور اگر ثابت نہ ہوں تو انہیں بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ریاستیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب وہ اختلاف سے خوفزدہ ہو جائیں۔
اور قومیں اس وقت بٹتی ہیں جب سوال پوچھنے والوں کو دشمن قرار دے دیا جائے۔

پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت طاقتور اداروں کے ساتھ ساتھ برداشت رکھنے والے سیاسی کلچر کی ہے۔ وفاداری اور اختلاف کے درمیان لکیر واضح رکھنا ہی اصل حب الوطنی ہے